Recitation
Next: 18_18
Arabic
۞وَتَرَى ٱلشَّمۡسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَٰوَرُ عَن كَهۡفِهِمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقۡرِضُهُمۡ ذَاتَ ٱلشِّمَالِ وَهُمۡ فِي فَجۡوَةٖ مِّنۡهُۚ ذَٰلِكَ مِنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِۗ مَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ وَلِيّٗا مُّرۡشِدٗا
Urdu
تم انہیں غار میں دیکھتے تو تمہیں یوں نظر آتا کہ سورج جب نکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولی مرشد نہیں پا سکتے
English
And [had you been present], you would see the sun when it rose, inclining away from their cave on the right, and when it set, passing away from them on the left, while they were [laying] within an open space thereof. That was from the signs of Allah. He whom Allah guides is the [rightly] guided, but he whom He leaves astray - never will you find for him a protecting guide
Tafsir — Bayan ul Quran
دعوتی دور میں جب اصحاب کہف اور ان کی قوم کے لوگوں کے درمیان کش مکش بڑھی، اسی دوران میں غالباً انھوںنے امکانی اندیشہ کے پیش نظر ایک مخصوص غار کا انتخاب کرلیا تھا۔ یہ غار اتنا وسیع تھا کہ سات آدمی بآسانی اس کے اندر قیام کرسکیں۔مزید یہ کہ غالباً وہ شمال رُویہ تھا۔ اس بنا پر سورج کی روشنی صبح یا شام کسی وقت بھی براہِ راست اس کے اندر نہیں پہنچتی تھی اور ادھر سے گزرنے والا کوئی شخص باہر سے دیکھ کر یہ نہیں جان سکتا تھا کہ اس کے اندر کچھ انسان موجود ہیں۔ جب آدمی ایسا کرے کہ حق کے معاملے میں مصلحت کا رویہ نہ اختیار کرے۔ مشکل ترین حالات میں بھی وہ صبر وشکر کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ رہے تو خدا اس کو ایسے راستوں کی طرف رہنمائی فرماتا ہے جس میںاس کا ایمان بھی محفوظ رہے اور وہ اپنے دعوتی مشن کو بھی نہ کھوئے۔ یہ نصرت اصحابِ کہف کو ان کے مخصوص حالات کے اعتبار سے پوری طرح حاصل ہوئی۔ مزید یہ کہ خدا نے ان کو اپنے خاص کام کے لیے چن لیا۔ انھوںنے جس روحانی بلندی کا ثبوت دیا تھا اس کے بعد وہ خدا کی نظر میں اس قابل ہوگئے کہ ان کو زندگی بعد موت کا حسی ثبوت بنادیا جائے— اصحاب کہف کا دو سوسال (يا اس سے زياده مدّت) تک سوکر دوبارہ اٹھنا اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے۔