Recitation
Next: 17_10
Arabic
إِنَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ يَهۡدِي لِلَّتِي هِيَ أَقۡوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمۡ أَجۡرٗا كَبِيرٗا
Urdu
حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے جو لو گ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے
English
Indeed, this Qur’an guides to that which is most suitable and gives good tidings to the believers who do righteous deeds that they will have a great reward
Tafsir — Bayan ul Quran
قرآن تمام انسانوں کو توحید کی طرف بلاتا ہے۔ یعنی ایک خدا کو مان کر اپنے آپ کو اس کی اطاعت میں دے دینا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے زیادہ صحیح، جس سے زیادہ معقول اور جس سے زیادہ مطابقِ فطرت بات کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ توحید بلاشبہ سب سے بڑی حقیقت ہے اور اسی کے ساتھ سب سے بڑی صداقت۔ توحید کی اس حیثیت کا تقاضا ہے کہ یہی تمام انسانوں کے لیے جانچ کا معیار ہو۔ اسی کی بنیاد پر کسی کو صحیح قرار دیا جائے اور کسی کو غلط۔ کوئی کامیاب ٹھہرے اور کوئی ناکام۔ موجودہ دنیا میں بظاہر یہ معیار سامنے نہیں آتا اور اس کی بنیاد پر انسانوں کی عملی تقسیم نہیں کی جاتی۔ مگر یہ صرف خدا کے قانون امتحان کی وجہ سے ہے۔ انفرادی طورپر موت اور اجتماعی طورپر قیامت اس مدت امتحان کی آخری حد ہے۔ یہ حد آتے ہی انسان دو گروہوں کی صورت میں الگ الگ کردئے جائیں گے۔ توحید کے راستہ کو اختیار کرنے والے اپنے آپ کو جنت میں پائیں گے اور اس کو اختیار نہ کرنے والے اپنے آپ کو جہنم میں۔