Recitation
Next: 17_69
Arabic
أَفَأَمِنتُمۡ أَن يَخۡسِفَ بِكُمۡ جَانِبَ ٱلۡبَرِّ أَوۡ يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبٗا ثُمَّ لَا تَجِدُواْ لَكُمۡ وَكِيلًا
Urdu
اچھا، تو کیا تم اِس بات سے بالکل بے خوف ہو کہ خدا کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میں دھنسا دے، یا تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی بھیج دے اور تم اس سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پاؤ؟
English
Then do you feel secure that [instead] He will not cause a part of the land to swallow you or send against you a storm of stones? Then you would not find for yourselves an advocate
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا انسان کو اس کی سرکشی کے باوجود فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس پر وقتی آفت بھیج کر اس کو خبردار کرتاہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب آفت آتی ہے تو وقتی طورپر اس کے اندر احساس جاگتا ہے مگر آفت کے رخصت ہوتے ہی اس کا احساس بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ بعد کو بھی وہ اتنا ہی خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے جتنا کہ وہ پہلے تھا۔ سمندر کے سفر سے اگر ایک بار وہ سلامتی کے ساتھ واپس آگیا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو دوبارہ سمندر کا سفر پیش آئے اور وہ دوبارہ اسی آفت میں گھر جائے جس میں وہ پہلے گھرا تھا۔ مزید یہ کہ خشکی کے خطرات سمندر کے خطرات سے کم نہیںہیں۔ سمندر میں جو چیز طوفان ہے خشکی پر وہی چیز زلزلہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں آدمی کوئی ایسی چیز پالے جو خدا کے مقابلہ میں اس کی طرف سے روک بن سکے۔