Recitation

Next: 17_25


Arabic

وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرٗا


Urdu

اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ “پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح اِنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا


English

And lower to them the wing of humility out of mercy and say, “My Lord, have mercy upon them as they brought me up [when I was] small


Tafsir — Bayan ul Quran

خدا انسان کا سب کچھ ہے۔ وہ اس کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور رازق بھی۔ مگر خدا غیب میں ہے۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کرتاہے، نہ کہ کسی ظاہری دباؤ کے تحت۔ اس اعتبار سے بوڑھے ماں باپ کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خداکے معاملہ جیسا ہے۔ کیوں کہ بوڑھے ماں باپ کا اپنی اولاد کے اوپر کوئی مادی زور نہیں ہوتا۔اولاد جب اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے تو وہ اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایساکرتی ہے، نہ کہ مادی دباؤ کے تحت۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لیے مجبور کیا گیا ہو۔ اس کو خود اپنے ارادہ کے تحت وہ کرنا ہے جو وہ اُس وقت کرتاہے جب کہ خدا اس کے سامنے اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے۔ یہ اختیارانہ عمل انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے اس کو انسان کے لیے آسان کردیا ہے۔ وہ انسان کو اس حاكم كي طرح نهيں جانچتا جو چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي سختي سے حساب ليتے هيں۔آدمی اگر بنیادی طورپر خدا کا وفادار ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو وہ نظر انداز کردیتاہے۔ انسان اگر غلطی کرکے پلٹ آئے تو وہ اس کو معاف کردیتاہے خواہ اس نے بظاہر کتنا بڑا جرم کردیا ہو۔


Connections

  • Previous: 17_23
  • Next: 17_25
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes