Recitation
Next: 16_95
Arabic
وَلَا تَتَّخِذُوٓاْ أَيۡمَٰنَكُمۡ دَخَلَۢا بَيۡنَكُمۡ فَتَزِلَّ قَدَمُۢ بَعۡدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُواْ ٱلسُّوٓءَ بِمَا صَدَدتُّمۡ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَكُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ
Urdu
(اور اے مسلمانو،) تم اپنی قسموں کو آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کا ذریعہ نہ بنا لینا، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی قدم جمنے کے بعد اکھڑ جائے اور تم اِس جرم کی پاداش میں کہ تم نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا، برا نتیجہ دیکھو اور سخت سزا بھگتو
English
And do not take your oaths as [means of] deceit between you, lest a foot slip after it was [once] firm, and you would taste evil [in this world] for what [people] you diverted from the way of Allah, and you would have [in the Hereafter] a great punishment
Tafsir — Bayan ul Quran
قسم کھا کر معاہدہ کرنا پختہ معاہدہ کی آخری صورت ہے۔ اس اعتبار سے اس آیت کے تحت تمام معاہدے آجاتے ہیں۔ اگر مسلمان ایسا کریں کہ وہ دوسروں سے معاہداتی معاملے کریں اور پھر کسی حقیقی سبب کے بغیر محض مفاد کی خاطر ان کو توڑ دیں تو اس سے ماحول میں مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ ختم ہوجائے گی۔ اور نتیجۃً ان کا یہ عمل لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب منکر اسلام دیکھے گا کہ مسلمان نے معاہدہ کیا اور پھر اس نے اس سے بے وفائی کی تو اس کو دین اسلام پر اعتماد باقی نہ رہے گا اور اس کی وجہ سے وہ خدا کے دین میں داخل ہونے سے رک جائے گا (لِأَنَّ الْكَافِرَ إِذَا رَأَى أَنَّ الْمُؤْمِنَ قَدْ عَاهَدَهُ ثُمَّ غَدَرَ بِهِ، لَمْ يَبْقَ لَهُ وُثُوقٌ بِالدِّينِ، فَانْصَدَّ بِسَبَبِهِ عَنِ الدُّخُولِ فِي الْإِسْلَامِ) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 600۔ عہد کو غیر شرعی طورپر توڑنے کا واقعہ ہمیشہ اس لیے پیش آتا ہے کہ آدمی کو یہ نظر آنے لگتا ہے کہ اگر وہ معاہدہ کو توڑ دے تو اس کو فلاں دنیوی فائدہ حاصل ہوجائے گا۔ مگر مومن کی نظر آخرت پسندانہ نظر ہوتی ہے۔ جب بھی اس کا نفس اس قسم کی تحریک کرتاہے تو وہ اپنے نفس کو یہ کہہ کر دبا دیتا ہے کہ معاہدہ توڑنے میں اگر دنیا کا فائدہ ہے تو معاہدہ نہ توڑنے میں آخرت کا فائدہ۔ اور دنیا کے فائدہ کے مقابلہ میں آخرت کا فائدہ یقیناً زیادہ بڑا ہے۔