Recitation

Next: 16_10


Arabic

وَعَلَى ٱللَّهِ قَصۡدُ ٱلسَّبِيلِ وَمِنۡهَا جَآئِرٞۚ وَلَوۡ شَآءَ لَهَدَىٰكُمۡ أَجۡمَعِينَ


Urdu

اور اللہ ہی کے ذمہ ہے سیدھا راستہ بتانا جب کہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا


English

And upon Allah is the direction of the [right] way, and among the various paths are those deviating. And if He willed, He could have guided you all


Tafsir — Bayan ul Quran

ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کے لیے متعین سڑک ہوتی ہے جو سیدھی منزل تک پہنچاتی ہے۔ سواریاں اپنی منزل مقصود کے مطابق انھیں سیدھی سڑکوں پر چلتی ہیں۔ تاہم ان سڑکوں کے علاوہ اطراف میں بھی راستے اور پگڈنڈیاں ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شخص ان متفرق راستوں کو راستہ سمجھ کر ان پر چل پڑے تو وہ کبھی اپنی مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ وہ اصل منزل کے دائیں بائیں بھٹک کر رہ جائے گا۔ یہی معاملہ خدا تک پہنچنے کا بھی ہے۔ خدانے انسان کو واضح طورپر بتادیا ہے کہ وہ کون سا راستہ ہے جو اس کو خدا تک پہنچانے والا ہے۔ یہ راستہ توحید اور تقویٰ کا راستہ ہے۔ جو شخص اس راستہ کو اختیار کرے گا وہ خدا تک پہنچے گا اور جو شخص دوسرے راستوں پر چلے گا وہ اِدھر اُدھر بھٹک جائے گا۔ وہ کبھی اپنے رب تک نہیں پہنچ سکتا۔ دنیا میں ہر چیز خداکے مقرر کيے ہوئے راستے پر چلتی ہے۔ خدا اگر چاہتاتو اسی طرح انسان کو بھی ایک مقرر راستہ کا پابند بنا دیتا۔ مگر انسان کا تخلیقی منصوبہ دوسری اشیاء کے تخلیقی منصوبہ سے مختلف ہے۔ دوسری اشیاء سے صرف پابندی مطلوب ہے۔ مگر انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ اختیاری پابندی ہے۔ اسی اختیاری پابندی کا موقع دینے کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی شخص سچے راستے پر چلتا ہے اورکوئی اس کو چھوڑ کر خود ساختہ راہوں میں بھٹکنے لگتاہے۔


Connections

  • Previous: 16_8
  • Next: 16_10
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes