Recitation
Next: 16_90
Arabic
وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدًا عَلَيۡهِم مِّنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَجِئۡنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِۚ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ تِبۡيَٰنٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِينَ
Urdu
(اے محمدؐ، اِنہیں اُس دن سے خبردار کر دو) جب کہ ہم ہر امت میں خود اُسی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو اُس کے مقابلے میں شہادت دے گا، اور اِن لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لیے ہم تمہیں لائیں گے اور (یہ اسی شہادت کی تیاری ہے کہ) ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کر دی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے سر تسلیم خم کر دیا ہے
English
And [mention] the Day when We will resurrect among every nation a witness over them from themselves. And We will bring you, [O Muhammad], as a witness over your nation. And We have sent down to you the Book as clarification for all things and as guidance and mercy and good tidings for the Muslims
Tafsir — Bayan ul Quran
اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ کسی قوم پر انذار و تبشیر کا کام خود اس قوم کے کسی منتخب فرد کے ذریعہ انجام دلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی قوم میں جو پیغمبر آئے وہ خود اسی قوم کے ایک فرد تھے۔ اب امت مسلمہ کو قیامت تک اسی طرح ہر قوم کے اندر دعوت وشہادت کی ذمہ داری انجام دینا ہے۔ یہ دنیا میں قوموں کو دعوت دینے والے آخرت میں قوموں کے اوپر خدا کے گواہ ہوں گے۔ انھیں کی گواہی پر قوم کے ہر فرد کے لیے ثواب یا عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ قرآن میں ہر چیز کا بیان ہے— اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری آسمانی کتابوں میں ہر چیز کا بیان نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آسمانی کتاب جو خدا کی طرف سے آئی اس میں ہر چیز کا بیان موجودتھا۔ تاہم اس ہر چیز کا تعلق دنیا کے علوم وفنون سے نہیں ہے بلکہ آخرت کی کامیابی اور ناکامی کے علم سے ہے۔ وہ تمام چیزیں جو آخرت میں کسی کو کامیاب یا ناکام بنانے والی ہیں وہ سب اصولی طورپر قرآن میں بیان کردی گئی ہیں۔ اب جو لوگ اس سے ہدایت لیں گے، ان کے لیے وہ ایک عظیم نعمت بن جائے گی۔ اور جو لوگ اس سے ہدایت نہ لیں ان کے حصہ میں صرف یہ آئے گا کہ وه اس کا انکار کرکے اپنی ہلاکت کے لیے وجہ جواز فراہم کردیں۔