Recitation
Next: 16_77
Arabic
وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا رَّجُلَيۡنِ أَحَدُهُمَآ أَبۡكَمُ لَا يَقۡدِرُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوۡلَىٰهُ أَيۡنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأۡتِ بِخَيۡرٍ هَلۡ يَسۡتَوِي هُوَ وَمَن يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
Urdu
اللہ ایک اور مثال دیتا ہے دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے، کوئی کام نہیں کر سکتا، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اُس سے بن نہ آئے دوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہ راست پر قائم ہے بتاؤ کیا یہ دونوں یکساں ہیں؟
English
And Allah presents an example of two men, one of them dumb and unable to do a thing, while he is a burden to his guardian. Wherever he directs him, he brings no good. Is he equal to one who commands justice, while he is on a straight path
Tafsir — Bayan ul Quran
اوپر آیت نمبر 75 میں خدا کے مقابلے میں شرکاء کا بے حقیقت ہونا بتایاگیا تھا۔ اب آیت 76 میں رسول کے مقابلہ میں ان ہستیوں کا بے حقیقت ہونا واضح کیا جارہا ہے جن کے بل پر آدمی رسول کی ہدایت کو نظر انداز کرتاہے۔ پیغمبر کو خدا اپنی خصوصی توجہ کے ذریعہ اس شاہراہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جوحق کی شاہراہ ہے اور جو براہِ راست خدا تک پہنچانے والی ہے۔ پیغمبر اور اس کے ساتھی اس شاہراہ پر خود چلتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی طرف رہنمائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو پیغمبر کے راستے کے سوا دوسرے راستوں کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کی مثال اندھے بہرے کی ہے۔ ان کے پاس کان نہیں کہ وہ خدا کی آوازوں کو سنیں، ان کے پاس آنکھ نہیں کہ ا س کے ذریعہ خدا کے جلوؤں کو دیکھیں۔ ان کے اندر وہ قلب ودماغ نہیں کہ وہ کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں کو پالیں۔ سمع وبصر وفواد اس لیے دئے گئے تھے کہ ان کے ذریعہ آدمی مخلوقات کے آئینہ میں خالق کا جلوہ دیکھے۔ مگر انسان نے ان کا استعمال یہ کیا کہ وہ خود مخلوقات میں اٹک کر رہ گیا۔