Recitation
Next: 16_72
Arabic
وَٱللَّهُ فَضَّلَ بَعۡضَكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ فِي ٱلرِّزۡقِۚ فَمَا ٱلَّذِينَ فُضِّلُواْ بِرَآدِّي رِزۡقِهِمۡ عَلَىٰ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ فَهُمۡ فِيهِ سَوَآءٌۚ أَفَبِنِعۡمَةِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ
Urdu
اور دیکھو، اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کی ہے پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیر دیا کرتے ہوں تاکہ دونوں اس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے اِن لوگوں کو انکار ہے؟
English
And Allah has favored some of you over others in provision. But those who were favored would not hand over their provision to those whom their right hands possess so they would be equal to them therein. Then is it the favor of Allah they reject
Tafsir — Bayan ul Quran
یہاں ایک سادہ سی مثال کے ذریعہ اس عقیدہ کو غلط ثابت کیاگیا ہے کہ خدا کے کچھ شریک ہیں۔ اور اس نے اپنے اختیارات کا ایک حصہ اپنے ان شریکوں کو دے دیا ہے۔ وہ مثال یہ کہ دنیا میں روزی کی تقسیم یکساں نہیں۔ عام طورپر دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی کے پاس بہت زیادہ ہوتا ہے اور کسی کے پاس اتنا کم ہوتاہے کہ وہ زیادہ والے کے یہاں نوکر اور غلام بننے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اب کوئی بھی زیادہ والا ایسا نہیں کرتا کہ اپنی دولت اپنے نوکروں میں بانٹ دے اور اس طرح اپنا اور نوکروں کا فرق مٹا کر یکساں ہوجائے۔ پھر خدا کے بارے میں یہ ماننا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنے اختیارات دوسروں کو تقسیم کردیے ہیں۔ کوئی شخص اپنی بڑائی کا آپ انکار نہیں کرتا۔ پھر جو بات ایک انسان بھی پسند نہیں کرتا، حالانکہ اس کے پاس کوئی ذاتی اثاثہ نہیں، اس بات کو خدا کیوں پسند کرے گا جس کے پاس جو کچھ ہے اس کا اپنا ذاتی ہے۔ کسی دوسرے کا دیا ہوا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام عقیدے خدا کی ہستی کی نفی کررہے ہیں۔ وہ خدا کوغیر خدا کی سطح پر پہنچا رہے ہیں جو کسی حال میں ممکن نہیں۔