Recitation

Next: 16_70


Arabic

ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ فَٱسۡلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلٗاۚ يَخۡرُجُ مِنۢ بُطُونِهَا شَرَابٞ مُّخۡتَلِفٌ أَلۡوَٰنُهُۥ فِيهِ شِفَآءٞ لِّلنَّاسِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ


Urdu

اپنے چھتے بنا اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ اِس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے یقیناً اس میں بھی ایک نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں


English

Then eat from all the fruits and follow the ways of your Lord laid down [for you].” There emerges from their bellies a drink, varying in colors, in which there is healing for people. Indeed in that is a sign for a people who give thought


Tafsir — Bayan ul Quran

یہاں ایک مادی مثال کی صورت میں معنوی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔شہد کی مکھی خدا کی قدرت کا ایک حیرت ناک شاہکار ہے۔ وہ ریاضیاتی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے انتہائی معیاری قسم کا چھتہ (honeycomb) بناتی ہے۔ پھر خاص منصوبہ بند انداز میں پھولوں کا رس (nectar)چوس کر لاتی ہے۔ اس کو ایک کامل ترین نظام کے تحت چھتوں میں اکٹھا کرتی ہے۔ پھر عین قوانین صحت کے مطابق شہد جیسی قیمتی چیز تیار کرتی ہے، جو انسان کے لیے غذا بھی ہے اور علاج بھی۔یہ سب کچھ اتنے عجیب اور اتنے منظم انداز میں ہوتا ہے کہ اس پر موٹی موٹی کتابیں لکھی گئی ہیں، پھر بھی اس کا بیان مکمل نہیں ہوا۔شہد کی یہ خدائی فیکٹری تمام انسانی کارخانوں سے زیادہ پیچیدہ اور زیادہ کامیاب ہے۔ تاہم بظاہر وہ ایسی مکھیوں کے ذریعہ چلایا جارہا ہے جنھوں نے کہیں اس فن کی تعلیم نہیں پائی۔ حتیٰ کہ ان کو اپنے اعمال کا ذاتی شعور بھی حاصل نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی کروانے والا ہے جو اپنی مخفی ہدایات کے ذریعہ مکھیوں سے یہ سب کچھ کروا رہا ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اگر کوئی دیکھنے والا دیکھے تو وہ ان کی حیران کن حد تک بامعنی سرگرمیوں میں خدا کی کارفرمائی کا زندہ مشاہدہ کرنے لگے گا۔شہد کی مکھی کی مثال دینے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس پراسس میں شہد کی مکھی دوسری تمام چیزوں کو نظر انداز کرکے پھولوں کے پاس پہنچ کر صرف اس کا نکٹر لیتی ہے، کسی اور چیز میں ڈسٹریکٹ نہیں ہوتی۔ یہی تدبر ہے۔ یہ دنیا ایک جنگل کی مانند ہے، مگر اس میں ہر جگہ حکمت و معرفت کے نِکٹر چھپے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ انسان کو عقل و تدبر کی صلاحیت ملی ہوئی ہے، جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دنیا کے جنگل میں ڈسٹریکٹ (distract) نہ ہو۔انسان کو چاہیے کہ وہ کائنات میں غور وفکر کے ذریعہ حکمت و معرفت کا نکٹر حاصل کرے ۔ جو طریقہ شہد کی مکھی کے لیے ’’رس‘‘ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، وہی انسان کی سطح پر پہنچ کر ’’معرفت‘‘ کا ذریعہ بن جاتا ہے، جس میں انسان کی روح کی غذا بھی ہے اور اس کی اخلاقی بیماریوں کا علاج بھی ۔


Connections

  • Previous: 16_68
  • Next: 16_70
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes