Recitation

Next: 16_62


Arabic

وَلَوۡ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِظُلۡمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيۡهَا مِن دَآبَّةٖ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗىۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ


Urdu

اگر کہیں اللہ لوگوں کو اُن کی زیادتی پر فوراً ہی پکڑ لیا کر تا تو روئے زمین پر کسی متنفس کو نہ چھوڑتا لیکن وہ سب کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے، پھر جب وہ وقت آ جاتا ہے تو اس سے کوئی ایک گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہو سکتا


English

And if Allah were to impose blame on the people for their wrongdoing, He would not have left upon the earth any creature, but He defers them for a specified term. And when their term has come, they will not remain behind an hour, nor will they precede [it]


Tafsir — Bayan ul Quran

ظلم پر گرفت کی ایک شکل یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی شخص ظلم کرے فوراً اس کو پکڑ کر سخت سزا دی جائے۔ مگر خدا کا یہ طریقہ نہیں۔ اگر خدا ایسا کرے تو زمین پر کوئی چلنے والا باقی نہ رہے۔ خدا نے ہر شخص اور ہر قوم کو ایک مقرر مہلت دی ہے۔ اس مدت تک وہ ہر ایک کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز سے یا خارجی تنبیہات سے چوکنا ہو اور اپنی اصلاح کرلے۔ اصلاح کرتے ہی لوگوں کے پچھلے تمام جرائم معاف کردیے جاتے ہیں۔ وہ ایسے ہو جاتے ہیں کہ جیسے انھوں نے ابھی نئی زندگی شروع کی ہو۔ دورانِ مہلت نہ پکڑنا جس طرح خدا نے اپنے اوپر لازم کیا ہے اسی طرح اس نے یہ بھی اپنے اوپر لازم کیا ہے کہ ختم مہلت کے بعد وہ لوگوں کو ضرور پکڑے۔ مہلت ختم ہونے کے بعد کسی کو مزید موقع نہیں دیا جاتا، نہ فرد کو نہ قوم کو۔


Connections

  • Previous: 16_60
  • Next: 16_62
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes