Recitation
Next: 16_55
Arabic
ثُمَّ إِذَا كَشَفَ ٱلضُّرَّ عَنكُمۡ إِذَا فَرِيقٞ مِّنكُم بِرَبِّهِمۡ يُشۡرِكُونَ
Urdu
مگر جب اللہ اس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکا یک تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو (اس مہربانی کے شکریے میں) شریک کرنے لگتا ہے
English
Then when He removes the adversity from you, at once a party of you associates others with their Lord
Tafsir — Bayan ul Quran
پوری تاریخ کا تجربہ ہے کہ آدمی جب کسی ایسی مصیبت میں پڑتا ہے جہاں وہ اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگے تو اس وقت وہ خدا کو یاد کرنے لگتا ہے۔ منکر اور مشرک دونوں ہی ایسا کرتے ہیں۔ اس تجربہ سے معلوم ہوا کہ خدا کا تصور انسانی فطرت میں پیوست ہے۔ جب تمام دوسرے علائق کٹ جاتے ہیں تو آخری چیز جو باقی رہتی ہے وہ صرف خدا ہے۔ مگر یہ انسان کی عجیب غفلت ہے کہ جب وہ مصیبت سے نجات پاتاہے تو دوبارہ اپنے فرضی خداؤں کی یاد میں مشغول ہوجاتا ہے۔ وہ ملی ہوئی نعمت کو خدا کے بجائے دوسری دوسری چیزوں کی طرف منسوب کردیتاہے۔ اس کو وہ عظیم سبق یاد نہیں رہتا جو خود اس کی فطرت نے چند لمحہ پہلے اس کو دیا تھا۔ شیطان نے فرضی معبودوں كي معبودیت کے عقیدے کو پختہ کرنے کے لیے طرح طرح کی جھوٹی رسمیں عوام میں رائج کررکھی ہیں۔ ان میں سے ایک ہے— اپنی آمدنی میں فرضی معبودوں کا حصہ نکالنا۔ اس قسم کی رسمیں خدا کی دنیا میں ایک بہتان کی حیثیت رکھتی ہیں کیوں کہ وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز کے لیے غیر خدا کا شکر ادا کرنے کے ہم معنی ہیں۔