Recitation
Next: 16_46
Arabic
أَفَأَمِنَ ٱلَّذِينَ مَكَرُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَخۡسِفَ ٱللَّهُ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ
Urdu
پھر کیا وہ لوگ جو (دعوت پیغمبر کی مخالفت میں) بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اِس بات سے بالکل ہی بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے، یا ایسے گوشے میں ان پر عذاب لے آئے جدھر سے اس کے آنے کا ان کو وہم و گمان تک نہ ہو
English
Then, do those who have planned evil deeds feel secure that Allah will not cause the earth to swallow them or that the punishment will not come upon them from where they do not perceive
Tafsir — Bayan ul Quran
یہ آیت مکی دور کے آخری زمانہ کی ہے جب کہ مکہ کے مخالفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازشیں کررہے تھے۔ پیغمبر خدا کی زمین پر خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس لیے پیغمبر کے خلاف اس قسم کی سازش کرنا ایسے ہی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو خدا کی پکڑ سے بالکل بے خوف ہوچکے ہوں۔ حالاں کہ خدا انسان کے اوپر اتنا زیادہ قابو یافتہ ہے کہ وہ چاہے تو انسان کو زمین میں دھنسا دے یا جس مقام کو آدمی اپنے لیے محفوظ سمجھے ہوئے ہے وہیں سے اس کے لیے ایک عذاب پھٹ پڑے۔ یا خدا ایسا کرے کہ لوگوں کی سرگرمیوں کے دوران انھیں پکڑ لے، پھر وہ اپنے آپ کو اس سے بچا نہ سکیں۔ خدا یہ بھی کرسکتا ہے کہ وہ اس طرح انھیں پکڑے کہ وہ خطرے کو محسوس کررہے ہوں اور اس کے لیے پوری طرح بیدار ہوں۔ غرض خدا ہر حالت میں انسان کو پکڑ سکتاہے۔ اگر وہ لوگوں کو شرارتیں کرتے دیکھتاہے اور اس کے باوجود وہ ان کو نہیں پکڑتا تو لوگوں کو بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس کی مصلحت امتحان ہے، نہ کہ اس کا عجز۔