Recitation

Next: 16_26


Arabic

لِيَحۡمِلُوٓاْ أَوۡزَارَهُمۡ كَامِلَةٗ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَمِنۡ أَوۡزَارِ ٱلَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيۡرِ عِلۡمٍۗ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ


Urdu

یہ باتیں وہ اس لیے کرتے ہیں کہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں، اور ساتھ ساتھ کچھ اُن لوگوں کے بوجھ بھی سمیٹیں جنہیں یہ بر بنائے جہالت گمراہ کر رہے ہیں دیکھو! کیسی سخت ذمہ داری ہے جو یہ اپنے سر لے رہے ہیں


English

That they may bear their own burdens in full on the Day of Resurrection and some of the burdens of those whom they misguide without knowledge. Unquestionably, evil is that which they bear


Tafsir — Bayan ul Quran

روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کی خبر دھیرے دھیرے عرب کے دوسرے قبائل میں پہنچی تو وہ ملاقات کے وقت مکہ کے سرداروں سے پوچھتے کہ جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے۔اس کے جواب میں مکہ کے سردار کوئی ایسی بات کہہ دیتے جس سے آپؐ کی شخصیت اور آپ کے کلام کے بارے میں لوگ شک میں مبتلا ہوجائیں (التفسیر المظہری، جلد5، صفحہ 334 ) اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بات کو بگڑے ہوئے الفاظ میں بیان کیا جائے۔ مثلاً قرآن میںپیغمبروں کا جو ذکر ہے اس کے متعلق وہ ’’پچھلے پیغمبروں کی تاریخ‘‘ کا لفظ بھی بول سکتے تھے، مگر اس کو انھوں نے ’’پچھلے لوگوں کے قصے کہانیوں‘‘ کا نام دے دیا۔ دعوت حق سے لوگوں کو اس طرح پھیرنا یا مشتبہ کرنا خدا کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگوں کو قیامت کے دن دگنا عذاب ہوگا۔ کیوں کہ وہ نہ صرف خود گمراہ ہوئے بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بنے۔


Connections

  • Previous: 16_24
  • Next: 16_26
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes