Recitation
Next: 16_16
Arabic
وَأَلۡقَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمۡ وَأَنۡهَٰرٗا وَسُبُلٗا لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ
Urdu
اُس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ زمین تم کو لے کر ڈھلک نہ جائے اس نے د ریا جاری کیے اور قدرتی راستے بنائے تاکہ تم ہدایت پاؤ
English
And He has cast into the earth firmly set mountains, lest it shift with you, and [made] rivers and roads, that you may be guided
Tafsir — Bayan ul Quran
یہاں دو چیزوں کا ذکر ہے۔ پہاڑ ابھار کر زمین پر توازن قائم کرنے کا۔ اور زمین وآسمان میں ایسی علامتیں قائم کرنا جو لوگوں کے لیے راستہ معلوم کرنے کا کام دیں۔ جغرافی مطالعہ بتاتا ہے کہ زمین میں جب گہرائیاں پیدا ہوئیں اور ان میں پانی جمع ہو کر سمندر بنے تو زمین ہلنے لگی۔ اس کے بعد خشکی پر اونچے پہاڑ ابھر آئے۔ اس طرح دوطرفہ عمل کے نتیجے میں زمین پر توازن قائم ہوگیا۔ اگر زمین کی سطح پر یہ توازن نہ ہوتا تو انسان کے لیے یہاں زندگی ناممکن یا کم از کم سخت دشوار ہوجاتی۔ اسی طرح انسان کو اپنے سفر اور نقل وحرکت کے لیے علامتوں کی ضرورت ہے جن کی مدد سے وہ سمت کو پہچانے اور بھٹکے بغیر اپنے منزل پر پہنچ جائے ۔ اس کا انتظام بھی یہاں کامل طورپر موجود ہے۔ قدیم زمانہ کا انسان دریاؤں اور ستاروں جیسی چیزوں سے اپنے راستے پہچانتا تھا۔ اب وہ مقناطیسی آلات کی مدد سے اپنا راستہ اور دوسری ضروری باتیں معلوم کرتاہے۔ خشکی اور تری، نیز فضاؤں اور خلاؤں میںتیز رفتار پروازیں اسی کی مدد سے ممکن ہوتی ہیں۔اگر اس قسم کی علامتیں موجود نہ ہوں تو انسانی سرگرمیاں انتہائی حد تک سمٹ کر رہ جائیں۔