Recitation

Next: 16_119


Arabic

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمۡنَا مَا قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ مِن قَبۡلُۖ وَمَا ظَلَمۡنَٰهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ


Urdu

وہ چیزیں ہم نے خاص طور پر یہودیوں کے لیے حرام کی تھیں جن کا ذکر ہم اس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور یہ اُن پر ہمارا ظلم نہ تھا بلکہ اُن کا اپنا ہی ظلم تھا جو وہ اپنے اوپر کر رہے تھے


English

And to those who are Jews We have prohibited that which We related to you before. And We did not wrong them [thereby], but they were wronging themselves


Tafsir — Bayan ul Quran

یہود کی مذہبی کتابوں میں بعض ایسی کھانے کی چیزیں حرام ہیں جو اسلام کی شریعت میں حرام نہیں کی گئی ہیں (النساء، 4:160 )۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ خود خدا نے دو قسم کے احکام دئے ہیں۔ یہود پر بھی اصلاً وہی غذائی چیزیں حرام ٹھیرائی گئی تھیں جو یہاں (النحل، آیت 115 ) میں مذکور ہیں۔ مگر بعد کو یہود نے خود ساختہ تصورات کے تحت کچھ جائز چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا۔ پیغمبروں کی فہمائش کے باوجود وہ اپنے اس خود ساختہ دین کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئے۔ مزید یہ کہ اولاًانھوں نے خدا کے حلال کو حرام کیا اور اس طرح اپنے آپ کو ناحق مصیبتوں میں ڈالا۔ اور پھر جب وہ اس حرام پر قائم نہ رہ سکے تو عقیدۃً اس کو حرام سمجھتے ہوئے عملاً اس کواپنے لیے جائز بنالیا۔ اس طرح وہ دہرے مجرم بن گئے۔ آدمی اگر کسی خود ساختہ نظریہ کے تحت ایک جائز چیز کو اپنے لیے ناجائز بنالے اور اس کی خاطر قربانیاں دینا شروع کردے، تو یہ محض اپنی جان پر ظلم کرنا ہوگا، نہ کہ خدا کے راستے ميں قربانی پیش کرنا۔


Connections

Tafsir Notes