Recitation
Next: 16_101
Arabic
إِنَّمَا سُلۡطَٰنُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَوَلَّوۡنَهُۥ وَٱلَّذِينَ هُم بِهِۦ مُشۡرِكُونَ
Urdu
اس کا زور تو انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے اور اس کے بہکانے سے شرک کرتے ہیں
English
His authority is only over those who take him as an ally and those who through him associate others with Allah
Tafsir — Bayan ul Quran
قرآن کو پڑھنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، اپنی نصیحت کے لیے پڑھنا۔ دوسري، دعوت کی خاطر دوسروں کے سامنے پیش کرنا، خواہ قر آن کے الفاظ دُہرائے جائیں یا اس کے مطالب بیان کيے جائیں۔دونوں صورتوں میں ضروری ہے کہ آدمی شیطان کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے۔ تعوذ کا مطلب صرف کچھ مقرر الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ اپنے آپ کو شعوری طورپر مسلح کرنا ہے تاکہ شیطان کا حملہ بے اثر ہو کر رہ جائے۔ شیطان ہر وقت آدمی کی گھات میںہے۔وہ قرآن کے الفاظ کے مفہوم کواس کے قاری کے ذہن میں بدل دیتاہے۔ اور جو چیز متن میں نہ ہو اس کو تفسیر میں شامل کرا دیتاہے۔ اسی طرح شیطان داعی اور مدعوکے درمیان ایسے فتنے ابھارتا ہے جس کے نتیجے میں دعوت کا عمل رک جائے۔ تاہم شیطان کو خدانے صرف بہکانے اور ورغلانے کی آزادی دی ہے۔ اس کو یہ طاقت نہیں دی کہ وہ کسی کو بزور گمراہی کے راستے پر ڈال دے۔ جو لوگ خدا سے اپنا ذہنی رابطہ قائم کيے ہوئے ہوں ان پر اس کا کچھ بس نہیں چلتا۔ البتہ جو لوگ خدا سے غافل ہوں اور شیطان کی باتوں پر دھیان دیں ان کے اورپر شیطان مسلط ہوجاتا ہے اور پھر جدھر چاہتا ہے ادھر انھیں لے جاتا ہے۔