Recitation
Next: 15_80
Arabic
فَٱنتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٖ مُّبِينٖ
Urdu
تو دیکھ لو کہ ہم نے بھی اُن سے انتقام لیا، اور اِن دونوں قوموں کے اجڑے ہوئے علاقے کھلے راستے پر واقع ہیں
English
So We took retribution from them, and indeed, both [cities] are on a clear highway
Tafsir — Bayan ul Quran
اصحاب ایکہ سے مراد حضرت شعیب کی قوم ہے۔ اس قوم کا اصل نام بنی مدیان تھا۔ یہ لوگ موجودہ تبوک کے علاقہ میں آباد تھے۔ اصحاب حجر سے مراد قوم ثمود ہے جس کی طرف حضرت صالح مبعوث ہوئے۔ یہ علاقہ موجودہ مدینہ کے شمال میں واقع تھا۔ اصحاب ایکہ کی سرکشی نے ان کو نہ صرف شرک میں مبتلا کیا بلکہ ان کو بدترین اخلاقی جرائم تک پہنچا دیا۔ حضرت شعیب کی یاد دہانی کے باوجود انھوں نے سبق نہیں لیاتو خدا نے زمین کو حکم دیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جو زمین ان کے لیے گہوارہ عیش بنی ہوئی تھی، وہی ان کے لیے گہوارۂ عذاب بن گئی۔ قوم ثمود سنگ تراشی کے فن میں ماہر تھے۔ انھوںنے پہاڑوں کو کاٹ کر ان کو شاندار گھروں میں تبدیل کردیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوں نے اپنی حفاظت کا آخری انتظام کرلیا ہے۔ جب انھوں نے خدا کی پکار کو نظر انداز کردیا تو خدا نے حکم دیا اور ان کے عظیم مکانات ان کے لیے عظیم قبروں میں تبدیل ہوگئے۔