Recitation
Next: 15_5
Arabic
وَمَآ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٞ مَّعۡلُومٞ
Urdu
ہم نے اِس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک خاص مہلت عمل لکھی جاچکی تھی
English
And We did not destroy any city but that for it was a known decree
Tafsir — Bayan ul Quran
دنیا میں انسان کو جو آزادی ملی ہوئی ہے وہ صرف امتحان کی مدّت تک کے لیے ہے۔ یہ ایک بہت نازک صورت حال ہے۔ اگر آدمی واقعی طورپر اس کو سوچے تو وہ ایسا محسوس کرے گا کہ جو مدت کل ختم ہونے والی ہے وہ گویا آج ختم ہوچکی ہے۔ یہ خیال اس کو ہلا کر رکھ دے گا۔ مگر آدمی صرف ’’آج‘‘ میں جیتا ہے، وہ ’’کل‘‘ پر دھیان نہیں دیتا۔ اس کے سامنے حقیقت کھولی جاتی ہے مگر وہ خوش فہمیوں میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ خود ساختہ طورپر کچھ فرضی سہارے تلاش کرلیتاہے اور سمجھتا ہے کہ یہ سہارے فیصلہ کے وقت اس کے کام آئیں گے۔ مگر غفلت اور خوش گمانی کا طلسم اس وقت ٹوٹ جاتا ہے جب مدت ختم ہوتی ہے اور خدا کے فرشتے اس کے پاس آجاتے ہیں تاکہ اس کو امتحان کی دنیا سے نکال کر انجام کی دنیا میں پہنچا دیں۔ اس وقت اس کو وہ مواقع یادآنے لگتے ہیں جب کہ اس نے ایک سچی دلیل کو جھوٹے الفاظ کے ذریعہ رد کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب اس نے ضمیر کی آواز کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کی تھی۔ جب اس نے خدا کے داعی میں خدا کی جھلکیاں پانے کے باوجود ذاتی پندار کی خاطر اس کو نظرانداز کردیا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ میری کوئی تدبیر میرے کام نہیں آئی تو وہ کہے گا کہ کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا جومیں نے کیا۔ کاش میں ’’منکر‘‘ کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے ’’مسلم‘‘ کا طریقہ اختیار کرتا۔