Recitation

Next: 15_27


Arabic

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ


Urdu

ہم نے انسان کو سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا


English

And We did certainly create man out of clay from an altered black mud


Tafsir — Bayan ul Quran

انسان کاوجود دو چیزوں سے مرکب ہے۔ ایک جسم اور دوسرے روح۔ جسم تمام تر ارضی مادوں سے بناہے۔ انسانی جسم کا تجزیہ بتاتا ہے کہ وہ انھیں اجزاء کی ترکیب سے بنا ہے جس کو عرف عام میں پانی اور مٹی کہتے ہیں۔ گویا جسم کے اعتبار سے انسان سراسر ایک بے حیات اور بے شعور وجود کا نام ہے۔ مگر جب خدا اس کے اندر اپنے پاس سے روح ڈال دے تو اچانک یہی جسم ایسی صلاحیتوں کا حامل بن جاتاہے جو معلوم کائنات میں کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں۔یہاں دوسری مخلوق وہ ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ جن انسان کے حریف ہیں۔ جن آگ کے شعلوں سے بنائے گئے ہیں۔ گویا کہ وہ عین اپنی پیدائش کے اعتبار سے جلانے والی مخلوق ہیں۔ جس طرح مٹی والی زمین اپنے آپ کو آگ والے سورج سے دور رکھتی ہے تاکہ وہ جل نہ جائے۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جنوں سے بچائے۔ ورنہ وہ اس کو اخلاقی اور دینی اعتبار سے جلا ڈالیں گے۔


Connections

  • Previous: 15_25
  • Next: 15_27
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes