Recitation
Next: 15_22
Arabic
وَإِن مِّن شَيۡءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَآئِنُهُۥ وَمَا نُنَزِّلُهُۥٓ إِلَّا بِقَدَرٖ مَّعۡلُومٖ
Urdu
کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں
English
And there is not a thing but that with Us are its depositories, and We do not send it down except according to a known measure
Tafsir — Bayan ul Quran
حد بندی کا اصول کائنا ت کی تمام چیزوں میں رائج ہے۔ ہوا ایک حد کے اندر چلتی ہے، حالانکہ خدا کبھی کبھی دکھاتا ہے کہ وہ آندھی بھی بن سکتی ہے۔ سورج ایک خاص فاصلہ پر ہے۔ اگر وہ اس سے اوپر چلا جائے تو زمین برف کی طرح جم جائے۔ سورج نیچے آجائے تو زمین جلتی ہوئی بھٹی بن جائے۔ زمین کی کشش نہایت موزوں مقدار میں ہے۔ اگر زمین کی جسامت دگنا ہوتی تو اس کی کشش اتنی بڑھ جاتی کہ بوجھ کی وجہ سے آدمی کے لیے زمین پر چلنا مشکل ہوتا۔ اور اگر زمین کی جسامت موجودہ جسامت سے نصف کے بقدر کم ہوتی تو اس کی کشش اتنی گھٹ جاتی کہ آدمی اور اس کے مکانات ہلکے پن کی وجہ سے زمین پر ٹھہر نہ سکتے۔ یہی حال ان تمام چیزوں کا ہے جن کے درمیان انسان رہتا ہے۔ ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر ہے وہ نہ اس سے گھٹتاہے اور نہ اس سے بڑھتاہے۔ زمین پر انسان اور تمام جانداروں کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے۔ زیرِ زمین پانی کے ذخیروں سے لے کر فضائی بادلوں تک پانی کی فراہمی کا نظام اتنے عجیب اور اتنے عظیم پیمانے پر ہے جس کا قائم کرنا ہرگز انسان کے بس میں نہیں۔ اس عجیب اور عظیم انتظام کو خدا مسلسل عین انسانی ضرورت کے مطابق قائم کيے ہوئے ہے۔ انسان ایک بے حدنازک مخلوق ہے۔ اس کے ماحول میں کوئی فرق اس کی پوری ہستی کو تہ وبالا کردینے کے لیے کافی ہے۔ ایسی حالت میں بے شمار اجزاء کی ایک کائنات، لاتعداد امکانات کا حامل ہونے کے باوجود، عین اسی مخصوص امکانی انداز ے پر قائم ہے جو انسان جیسی ایک مخلوق کے لیے مناسب ہے۔ یہ اعتدال اور تناسب ہر گز اتفاقی نہیں ہوسکتا۔ یقیناً اس کا کوئی زبردست خالق اور ناظم ہے۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کو نہ مانے یا خدا کو مان کر اس کا شریک ٹھہرائے وہ صرف اپنے غیر معقول ہونے کا ثبوت دیتا ہے، نہ کہ عقیدۂ توحید کے غیر معقول ہونے کا۔