Recitation
Next: 14_34
Arabic
وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ دَآئِبَيۡنِۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ
Urdu
جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا
English
And He subjected for you the sun and the moon, continuous [in orbit], and subjected for you the night and the day
Tafsir — Bayan ul Quran
موجودہ دنیا انتہائی حیرت ناک حد تک خدا کی گواہی دے رہی ہے۔ وسیع خلا میں ستاروں اور سیاروں کی گردش، پانی کے ذریعہ زمین پر زندگی اور رزق کی فراہمی، خشکی و تری اور فضا پر انسان کو یہ قدرت ہونا کہ ان میں وہ اپنی سواریاں دوڑائے، دریاؤں اور پہاڑوں کے ذریعے زمین کا انسان کے موافق ہو جانا سورج اور چاند کے ذریعہ موسموں کا اور رات دن کا انتظام، سب کچھ اس سے زیادہ عظیم ہے کہ ان کو لفظوں میں بیان کیا جاسکے۔ انسان اور کائنات میں اتنی کامل مطابقت ہے کہ انسان کی ہر قابل قیاس یاناقابل قیاس ضرورت پیشگی طورپر یہاں بافراط موجود ہے۔ یہ تمام چیزیں اتنی زیادہ عجیب ہیں کہ آدمی کو ہلا دیں اور اس کو عبدیت کے جذبے سے سرشار کردیں۔ اس کے باوجود ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ کائنات کو دیکھ کر آدمی کے اندر استعجاب کی کیفیت پیدا ہو۔ خالق کائنات کے تصور سے اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی پیدا ہوتے ہی کائنات کو دیکھتا ہے، دیکھتے دیکھتے وہ اس کو ایک عام چیز معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس میں اسے کوئی انوکھا پن نظر نہیں آتا۔ مزید یہ کہ اس دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ بظاہر اس کو اسباب کے تحت ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس بنا پر وہ سمجھ لیتاہے کہ جو چیز اس کو ملی ہے وہ اس کی اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی کے اندر دینے والے خدا کے ليے شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ انسان کی یہی وہ غفلت ہے جس کو یہاں بے انصافی اور ناشکر گزاری سے تعبیر کیا گیاہے۔