Recitation

Next: 14_23


Arabic

وَقَالَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لَمَّا قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ ٱلۡحَقِّ وَوَعَدتُّكُمۡ فَأَخۡلَفۡتُكُمۡۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُم مِّن سُلۡطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوۡتُكُمۡ فَٱسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوٓاْ أَنفُسَكُمۖ مَّآ أَنَا۠ بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَآ أَنتُم بِمُصۡرِخِيَّ إِنِّي كَفَرۡتُ بِمَآ أَشۡرَكۡتُمُونِ مِن قَبۡلُۗ إِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ


Urdu

اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے و ہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اِس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میر ی اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے درد ناک سزا یقینی ہے


English

And Satan will say when the matter has been concluded, “Indeed, Allah had promised you the promise of truth. And I promised you, but I betrayed you. But I had no authority over you except that I invited you, and you responded to me. So do not blame me; but blame yourselves. I cannot be called to your aid, nor can you be called to my aid. Indeed, I deny your association of me [with Allah] before. Indeed, for the wrongdoers is a painful punishment


Tafsir — Bayan ul Quran

خدا کی دنیا واقعات کی دنیا ہے، نہ کہ تخیلات کی دنیا ۔ یہاں شیطان کے وعدے پر اٹھنا یہ ہے کہ آدمی غیر حقیقی بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کرنا چاہے۔ آدمی حق کے داعی کو نظر انداز کردے اور دوسرے دوسرے کارنامے دکھا کر حق کا علم بردار ہونے کا کریڈٹ لے۔ وہ آخرت کے لیے عمل نہ کرے اور خود ساختہ مفروضوں کے تحت یہ امید قائم کرلے کہ اس کی نجات ہوجائے گی۔ وہ خدا کے احکام کے مطابق زندگی نہ گزارے اور یہ یقین کرلے کہ اس کا نام اپنے آپ خدا کے محبوب بندوں میں لکھ لیا جائے گا — یہ سب شیطان کے وعدوں پر بھروسہ کرنا ہے۔ اور آخرت میں آدمی جان لے گا کہ صرف خدا کا وعدہ سچا وعدہ تھا۔ اور باقی تمام وعدے جھوٹے بھروسے تھے جو کبھی پورے ہونے والے نہیں۔ خدا کی دنیامیں غیرِ خدا سے امید قائم کرنا شرک ہے۔ اس لیے جو لوگ خدائی حقیقتوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور غیر خدائی توقعات پر اپنی زندگی کا محل کھڑا کرنا چاہتے ہیں، وہ گویا خدا کے ساتھ دوسری چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہرارہے ہیں۔ یہ دوسری چیزیں فیصلہ کے دن ان کا کچھ بھی سہارا نہ بن سکیں گی۔


Connections

  • Previous: 14_21
  • Next: 14_23
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes