Recitation
Next: 14_16
Arabic
وَٱسۡتَفۡتَحُواْ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٖ
Urdu
اُنہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں اُن کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی
English
And they requested victory from Allah, and disappointed, [therefore], was every obstinate tyrant
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا کے نزدیک کسی آدمی کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ اس کو خدا کی طرف بلایا جائے اور وہ جبّار اور عنید بن کر اس کا جواب دے۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں ایسا شدیدعذاب کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو موت اور ہلاکت کے کنارے پائیں گے۔ جب آدمی کسی کے خلاف ظلم اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتاہے تو وہ کسی برتے پر ایسا کرتاہے۔ یہ مخالفین اپنے آپ کو ’’اکابر‘‘ کے دین پر سمجھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں پیغمبر اور اس کے ساتھی ان کو ’’اصاغر‘‘ دکھائی دیتے تھے۔ ان کی یہی نفسیات تھی جس نے انھیں آمادہ کیا کہ وہ پیغمبر اور اس کے ساتھوں کے اوپر ہر قسم کے ظلم کو اپنے لیے جائز سمجھ لیں۔ اپنے كو ’’اکابر‘‘ سے منسوب کرنے ہی کي وجہ سے وہ ’’اصاغر‘‘ کے خلاف ہر قسم کی کارروائیوں کے لیے دلیر ہوگئے۔