Recitation

Next: 13_6


Arabic

۞وَإِن تَعۡجَبۡ فَعَجَبٞ قَوۡلُهُمۡ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا أَءِنَّا لَفِي خَلۡقٖ جَدِيدٍۗ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ ٱلۡأَغۡلَٰلُ فِيٓ أَعۡنَاقِهِمۡۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ


Urdu

اب اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ “جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے


English

And if you are astonished, [O Muhammad] - then astonishing is their saying, “When we are dust, will we indeed be [brought] into a new creation?” Those are the ones who have disbelieved in their Lord, and those will have shackles upon their necks, and those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally


Tafsir — Bayan ul Quran

دوسری زندگی کے منکرین کا کیس نہایت عجیب ہے۔ وہ جس واقعہ کے ظہور کو ایک بار مان رہے ہیں اسی واقعہ کے دوبارہ ظہور کا انکار کردیتے ہیں۔ جو لوگ دوسری زندگی کے وقوع کو نہیں مانتے وہ دوسری زندگی کا عقیدہ رکھنے والوں پر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہوتاہے کہ دوسری زندگی کو ماننا ایک غیر علمی بات کو ماننا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ کیوںکہ کوئی منکر جس چیز کا انکار کرسکتاہے، وہ صرف دوسری زندگی ہے۔ جہاں تک پہلی زندگی کا تعلق ہے اس کاانکار کرنا کسی شخص کے لیے ممکن نہیں۔ کیونکہ وہ تو ایک زندہ واقعہ کے طورپر ہر آدمی کے سامنے موجود ہے۔ پھر جب پہلی زندگی کا وجود میں آنا ممکن ہے تو دوسری زندگی کا وجود میںآنا ناممکن کیوں ہو۔ ایسے لوگ ہمیشہ بہت کم پائے گئے ہیں جو خدا کے منکرہوں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک خالق کو مانتے ہیں مگر وہ آخرت کو نہیں مانتے۔ مگر آخرت کے انکار کے بعد خالق کے اقرار کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔ خدا اس کائنات کا خالق ہی نہیں وہ بذاتِ خود حق بھی ہے۔ خدا کا سراپا حق اور عدل ہونا لازمی طور پر تقاضا کرتاہے کہ وہ جو کچھ کرے حق اور عدل کے مطابق کرے۔ آخرت دراصل خدا کی صفت عدل کا ظہور ہے۔ خداکا ماننا وہی ماننا ہے جب کہ اس کے ساتھ آخرت کو بھی مانا جائے۔ آخرت کو مانے بغیر خدا کا عقیدہ مکمل نہیںہوتا۔ جو لوگ حق کے سیدھے اور سچے پیغام کو نہیں مانتے اس کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ جمود اور تعصب اور اَنانیت کے شکار ہوتے ہیں۔ان سے بات کیجيے تو ایسا معلوم ہوگا کہ وہ خود اپنے خیالات کے قیدی بنے ہوئے ہیں۔ اس سے نکل کر وہ آزادانہ طورپر کسی خارجی حقیقت پر غور نہیں کرسکتے۔ اسی حالت کو ’’گردن میں طوق پڑنا‘‘ فرمایا۔ کیوں کہ گردن میں طوق ہونا غلامی کی علامت ہے۔ گویا کہ یہ لوگ خود اپنے خیالات کے غلام ہیں۔ جو لوگ اس طرح اپنے آپ کو دنیا میں قیدی بنالیں، آخرت میں بھی ان کے حصے میں قید ہی آئے گی۔


Connections

  • Previous: 13_4
  • Next: 13_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes