Recitation
Next: 13_14
Arabic
وَيُسَبِّحُ ٱلرَّعۡدُ بِحَمۡدِهِۦ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ مِنۡ خِيفَتِهِۦ وَيُرۡسِلُ ٱلصَّوَٰعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَن يَشَآءُ وَهُمۡ يُجَٰدِلُونَ فِي ٱللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ ٱلۡمِحَالِ
Urdu
بادلوں کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اُس کی تسبیح کرتے ہیں وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے اور (بسا اوقات) اُنہیں جس پر چاہتا ہے عین اس حالت میں گرا دیتا ہے جبکہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں فی الواقع اس کی چال بڑی زبردست ہے
English
And the thunder exalts [Allah] with praise of Him - and the angels [as well] from fear of Him - and He sends thunderbolts and strikes therewith whom He wills while they dispute about Allah; and He is severe in assault
Tafsir — Bayan ul Quran
بجلی چمکتی ہے تو کبھی وہ نئے خوش گوار موسم کی آمد کاپیغام ہوتی ہے اور کبھی وہ صاعقہ بن کر زمین پر گرتی ہے اور چیزوں کو جلا ڈالتی ہے۔ اسی طرح بادل اٹھتے ہیں تو کبھی وہ مفید بارش کی صورت میں زمین پر برستے ہیں اور کبھی طوفان اور سیلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں ایک ہی چیز میں ڈر کا پہلو بھی ہے اور امید کا پہلو بھی۔ دنیا کا انتظام کرنے والا جس چیز کے ذریعہ دنیا والوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اسی کو وہ تباہ کن عذاب بھی بنا سکتا ہے۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ آدمی کبھی اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے مامون نہ سمجھے۔ غافل انسان ہمیشہ کسی انوکھی اور طلسماتی نشانی کے ظہور کے منتظر رہتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کا شعور بیدار ہے، وہ اپنے آس پاس روز مرہ کے واقعات میں ہر قسم کی اعلیٰ نشانی پالیتے ہیں۔ بجلی کی کڑک چمک ان کے دل کی دھڑکنیں تیز کردیتی ہیں۔ اور بارش کے قطرے دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ پڑتا ہے۔ خدا کی طاقتوں کو براہِ راست دیکھ کر فرشتوں کا جو حال ہوتا ہے وہی حال سچے انسانوں کا اس وقت ہوجاتا ہے جب کہ انھوںنے خدا کی طاقتوں کو ابھی براہِ راست نہیں دیکھا ہے۔