Recitation

Next: 11_89


Arabic

قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَرَزَقَنِي مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنٗاۚ وَمَآ أُرِيدُ أَنۡ أُخَالِفَكُمۡ إِلَىٰ مَآ أَنۡهَىٰكُمۡ عَنۡهُۚ إِنۡ أُرِيدُ إِلَّا ٱلۡإِصۡلَٰحَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُۚ وَمَا تَوۡفِيقِيٓ إِلَّا بِٱللَّهِۚ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ أُنِيبُ


Urdu

شعیبؑ نے کہا “بھائیو، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے اپنے ہاں سے مجھ کو اچھا رزق بھی عطا کیا (تو اس کے بعد میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں میں تمہارا شریک حال کیسے ہوسکتا ہوں؟) اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں


English

He said, “O my people, have you considered: if I am upon clear evidence from my Lord and He has provided me with a good provision from Him…? And I do not intend to differ from you in that which I have forbidden you; I only intend reform as much as I am able. And my success is not but through Allah. Upon him I have relied, and to Him I return


Tafsir — Bayan ul Quran

ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے تقلیدی طورپر ماننا۔ دوسراصحیح سمجھ کر ماننا۔ پہلی صورت میں آدمی کسی بات کو اس لیے مانتا ہے کہ لوگ اس کو مانتے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ اس کواس لیے مانتا ہے کہ اس نے خود دلیل کی بنیاد پر پایا ہے کہ وہ بات صحیح ہے۔ اوّل الذکر اگر رسمی اقرار ہے تو ثانی الذکر شعوری دریافت۔ حق کو دلیل (ياشعور) کی سطح پر پانا ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ اسی سے وہ زندہ یقین حاصل ہوتا ہے جب کہ آدمی ہر چیز سے بے پروا ہو کر لوگوں کے درمیان کھڑا ہو اور حق کی نمائندگی کرسکے۔ حق کی شعوری یافت ہر دوسری چیز کا بدل ہے۔ جس کو یہ نعمت حاصل ہوجائے اس کو پھر کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ عام آدمی’’روٹی‘‘ پر جیتاہے۔ مومن وہ انسان ہے جو دلیل حق پر جیتاہے۔ اس طرح کا رزق (شعوری یافت) ملنے کے بعد آدمی کے لیے ناممکن ہوجاتاہے کہ وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے۔قول وعمل کا تضاد رسمی ایمان کا نتیجہ ہے اور قول وعمل کی یکسانیت شعوری ایمان کا نتیجہ۔ ’’شقاق‘‘ کی تشریح میں حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ میری دشمنی تم کو ایمان کا راستہ چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کہ اس کے بعد تم کو وہ سزا ملے جو کافروں کو ملی (لَا يَحْمِلَنَّكُمْ مُعَادَاتِي عَلَى تَرْكِ الْإِيمَانِ فَيُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَ الْكُفَّارَ ) تفسیر القرطبی، جلد9، صفحہ 90 داعی چونکہ اپنے زمانہ کے لوگوں کو ایک عام انسان کی مانند نظر آتاہے۔ اس لیے ا س كي ناقدانہ باتوں سے وہ لوگ بگڑ ا ٹھتے ہیں جن کو ماحول میں اونچی حیثیت حاصل ہو۔ ایک معمولی آدمی کی یہ جرأت ان کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتی ہے کہ وہ ان پر اور ان کے بڑوں پر تنقید کرے۔ اس وجہ سے ان کے اندر داعی کے خلاف ضد اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ کسی آدمی کے اندر اس قسم کی نفسیات کا پیدا ہونا اس کا نہایت کڑے امتحان میں مبتلا کیا جانا ہے۔ کیونکہ ایساآدمی ایک شخص کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کی طرف سے آنے والی خدائی بات کو بھی حقیر سمجھ لیتاہے۔ وہ ایک انسان کو نظر انداز کرنے کے نام پر خود خدا کو نظر انداز کردیتاہے۔


Connections

  • Previous: 11_87
  • Next: 11_89
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes