Recitation
Next: 11_8
Arabic
وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ وَكَانَ عَرۡشُهُۥ عَلَى ٱلۡمَآءِ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۗ وَلَئِن قُلۡتَ إِنَّكُم مَّبۡعُوثُونَ مِنۢ بَعۡدِ ٱلۡمَوۡتِ لَيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
Urdu
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے اب اگر اے محمدؐ، تم کہتے ہو کہ لوگو، مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو گری ہے
English
And it is He who created the heavens and the earth in six days - and His Throne had been upon water - that He might test you as to which of you is best in deed. But if you say, “Indeed, you are resurrected after death,” those who disbelieve will surely say, “This is not but obvious magic
Tafsir — Bayan ul Quran
موجودہ دنیا کو خدا نے چھ دنوں یعنی چھ ادوار (periods) میں پیدا کیا ہے۔ زمین پر ایک ایسا دور گزرا ہے جب کہ اس کی سطح پانی سے ڈھکی ہوئی تھی۔ خدا کی سلطنت کے اس حصہ میں اس وقت صرف پانی نظر آتا تھا۔ ا س کے بعد خدا کے حکم سے خشکی کے علاقے ابھر آئے اور پانی سمندروں کی گہرائی میں جمع ہوگیا۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ زمین پر موجودہ انواع حیات ظہور میں آئیں۔ خدا اگر چہ قادر ہے کہ واقعات کو اچانک ظاہر کردے۔ مگر یہ دنیا انسان کے لیے بطور امتحان گاہ بنائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو منصوبہ کے تحت بنایا اور اپنی تخلیقات پر اسباب کا پردہ قائم رکھا۔ دنیا کی پیدائش اور اس پر انسان کی آبادکاری سے خدا کا مقصود اچھا عمل کرنے والے کا انتخاب ہے۔ ’’اچھا عمل ‘‘ دراصل حقیقت پسندانہ عمل کا دوسرا نام ہے۔ یعنی کسی دباؤکے بغیر وہ کرنا جو از روئے حقیقت آدمی کو کرنا چاہیے۔ حقیقت پسند شخص وہ ہے جو اسباب کے ظاہری پردہ سے گزر کر خدا کی چھپی ہوئی کارفرمائی کو دیکھ لے۔ بظاہر اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ سرکشی کی زندگی گزارنے کا موقع رکھتے ہوئے خدا کا تابعدار بن جائے۔ موجودہ دنیا میں ایسے ہی حقیقت پسند انسانوں کا چناؤ ہورہا ہے۔ جب چناؤ کی یہ مدت ختم ہوگی تو موجودہ نظام کو ختم کرکے دوسرا معیاری نظام بنایا جائے گا جہاں تمام اچھی چیزیں صرف اچھا عمل کرنے والوں کے لیے ہوں گی اور تمام بری چیزیں صرف برا عمل کرنے والوں کے لیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے قانون مہلت کی وجہ سے منکروں اور سرکشوں کو فوراً نہیں پکڑتا۔ ان کو انتہائی حد تک موقع دیتاہے کہ وہ یا تو متنبہ ہوکر اپنی اصلاح کرلیں یا آخری طورپر اپنے آپ کو مجرم ثابت کردیں۔ یہ قانون مہلت بعض سرکشوں کے لیے غلط فہمی کا سبب بن جاتاہے۔ وہ اپنی حیثیت کو بھول کر بڑی بڑی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ مگر جب وہ خدا کی پکڑ میں آجائیںگے اس وقت انھیں معلوم ہوگا کہ وہ خدا کے مقابلہ میں کس قدر بے بس تھے۔