Recitation

Next: 11_64


Arabic

قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَءَاتَىٰنِي مِنۡهُ رَحۡمَةٗ فَمَن يَنصُرُنِي مِنَ ٱللَّهِ إِنۡ عَصَيۡتُهُۥۖ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيۡرَ تَخۡسِيرٖ


Urdu

صالحؑ نے کہا “اے برادران قوم، تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اِس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا اگر میں اُس کی نافرمانی کروں؟ تم میرے کس کام آ سکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اور زیادہ خسارے میں ڈال دو


English

He said, “O my people, have you considered: if I should be upon clear evidence from my Lord and He has given me mercy from Himself, who would protect me from Allah if I disobeyed Him? So you would not increase me except in loss


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک خدا کی عبادت کی طرف بلایا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کا مقصد تھا۔ مگر حضرت صالح کی قوم آپ کے پیغام کو قبول نہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس کو براہِ راست خدا سے جوڑنے کی بات کرتے تھے، جب کہ قوم کا حال یہ تھا کہ وہ خدا کے نام پر صرف اپنے اعاظم واکابر سے جڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے کسی چیز کی اہمیت اور معنویت صرف اس وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ ان کے قومی بزرگوں کے قول وعمل میں اس کی تصدیق مل جائے۔ اب چونکہ حضرت صالح کے پاس صرف دلیل کا زور تھا، ان کی قوم ان کی بات کی اہمیت کو محسوس نہ کرسکی۔ حضرت صالح جس دین کی طرف بلارہے تھے اس کی اہمیت خدا کی وحی اور زمین و آسمان کی نشانیوں میں غور کرنے سے واضح ہوتی تھی۔ جب کہ ان کی قوم صرف اس دین کی اہمیت سے باخبر تھی جو اکابر قوم کے ملفوظات اور معمولات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی قوم آپ کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب ہو کر بھی بس ایک قسم کے شبہ کی حالت میں پڑی رہی۔ حضرت صالح، دوسرے تمام پیغمبروں کی طرح، شخصیت اور ذہانت میں اپنی قوم کے ممتاز فرد تھے۔ لوگ امید رکھتے تھے کہ بڑے ہو کر وہ قوم کے ایک کار آمد فرد ثابت ہوں گے۔ مگر وہ بڑی عمر کو پہنچے تو انھوں نے قوم کے مروجہ مذہب پر تنقید شروع کردی۔ یہ دیکھ کر قوم کے لوگوں کو ان کے بارہ میں سخت مایوسی ہوئی۔ انھوںنے کہا، ہم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ تم ہمارے قائم شدہ مذہبی نظام کے ایک ستون بنو گے۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے مذہبی نظام کو بے بنیادثابت کرنے پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہو — یہی معاملہ ہر دور میں خدا کے سچے داعیوں کو اپنی قوم کی طرف سے پیش آیا ہے۔


Connections

  • Previous: 11_62
  • Next: 11_64
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes