Recitation
Next: 11_31
Arabic
وَيَٰقَوۡمِ مَن يَنصُرُنِي مِنَ ٱللَّهِ إِن طَرَدتُّهُمۡۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
Urdu
اور اے قوم، اگر میں اِن لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے کون مجھے بچانے آئے گا؟ تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات بھی نہیں آتی؟
English
And O my people, who would protect me from Allah if I drove them away? Then will you not be reminded
Tafsir — Bayan ul Quran
یہاں ’’بینہ‘‘ سے مراد دلیل ہے اور رحمت سے مراد نبوت ہے (تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 55 ) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر جب کسی قوم کو دعوت دیتاہے تو وہ دو چیزوں کے اوپر کھڑا ہوتاہے، دلیل اور نبوت۔ پیغمبر کے بعد کوئی داعی بھی اسی وقت داعی ہے جب کہ وہ انھیں دو چیزوں پر کھڑا ہو۔ اس فرق کے ساتھ کہ دلیل کے بعد دوسری چیز جو اس کے پاس ہوگی وہ بالواسطہ طورپر پیغمبر سے ملی ہوگی۔ جب کہ پیغمبر کے پاس وہ براہِ راست خدا کی طرف سے آئی ہے۔ قوم جس وقت خدا کے داعی کو یہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے کہ اس کے یہاں ظاہری اعتبار سے کوئی قابل لحاظ چیز نہیں، عین اسی وقت اس کے پاس ایک بہت بڑی قابل لحاظ چیز موجود ہوتی ہے۔ اور وہ دلیل اورہدایت ہے۔ دلیل اور ہدایت کی بڑائی کامل طورپر خدا کے داعی کے پاس موجود ہوتی ہے۔ مگر یہ بہر حال معنوی بڑائی ہے۔ اور جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں ان کو معنوی بڑائی کیوں کر دکھائی دے گی۔ دعوت الی اللہ کا کام خالص اخروی کام ہے۔ اس کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان زر اورزمین کے جھگڑے نہ ہوں۔ یہ ذمہ داری خود داعی کو لینی پڑتی ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان معتدل فضاہو۔ اور اس کی خاطر وہ ہر قسم کے مادی اور معاشی جھگڑے یک طرفہ طورپر ختم کردے۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ وہ ایک طرف دعوت دے اور دوسری طرف مدعو سے دنیوی چیزوں کے لیے احتجاج اور مطالبہ بھی کررہا ہو، وہ داعی نہیں، مسخرہ ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہ مدعو کی نظر میں ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔ مدعو کا امتحان یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک بے عظمت انسان کے اندر حق کی عظمت کو دیکھ لے۔ اسی طرح داعی کا امتحان یہ ہے کہ وہ کسی بے دین کا اس ليے استقبال نہ کرنے لگے کہ وہ مال وجاہ کا مالک ہے،اور کسی د ین دار کو اس لیے ناقابلِ لحاظ نہ سمجھ لے کہ اس کے پاس دنیوی شان وشوکت کی چیزیں موجود نہیں۔ داعی اگر ایسا کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ زبان سے آخرت کی اہمیت کا وعظ کہہ رہا ہے اور عمل سے دنیا کی اہمیت کا ثبوت دے رہاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی تردید آپ ہے۔ اور جو شخص اپنی تردید آپ کرے اس کی بات کی دوسروں کی نظر میں کیا قیمت ہوسکتی ہے۔