Recitation

Next: 11_4


Arabic

وَأَنِ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِ يُمَتِّعۡكُم مَّتَٰعًا حَسَنًا إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى وَيُؤۡتِ كُلَّ ذِي فَضۡلٖ فَضۡلَهُۥۖ وَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٖ كَبِيرٍ


Urdu

اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں


English

And [saying], “Seek forgiveness of your Lord and repent to Him, [and] He will let you enjoy a good provision for a specified term and give every doer of favor his favor. But if you turn away, then indeed, I fear for you the punishment of a great Day


Tafsir — Bayan ul Quran

قرآن کی دعوت یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے۔ وہ ایک خداکو اپنا سب کچھ بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے۔ اس کے ذہن ودماغ پر اسی کا غلبہ ہو۔ اپنی زندگی کے معاملات میں وہ سب سے زیادہ اس کی مرضی کا لحاظ کرے۔ وہ اپنے آپ کو عابد کے مقام پر رکھ کر خدا کو معبود کا مقام دینے پر راضی ہوجائے۔ پیغمبرانہ دعوت دراصل اسی چیز سے انسان کو باخبر کرنے کی دعوت ہے۔ قرآن میںاس کو انتہائی محکم زبان اور واضح اسلوب میں بیان کردیا گیا ہے۔ اب انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اس کے مقابلہ میں صحیح ردعمل پیش کرے۔ حسد، گھمنڈ، مصلحت بینی اور گروہ پرستی جیسی چیزوں کے زیر اثر آکر وہ اس کو نظر انداز نہ کردے۔ بلکہ سیدھی طرح اس کو مان کر خدا کی طرف پلٹ آئے۔ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کے لیے خدا سے معافی مانگے اور مستقبل کے لیے خدا سے مدد کی درخواست کرے۔ آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے اور وہ کھانے کو قبول کرلے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی جسمانی پرورش کا انتظام کیا۔ اس کے برعکس، اگر وہ کھانا قبول نہ کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو جسمانی پرورش سے محروم رکھا۔ ایسا ہی معاملہ دعوت حق کا ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرتاہے تو درحقیقت وہ اس رزق ربانی کو قبول کرتاہے جو اس کے اندر داخل ہو کر اس کی روح اور اس کے جسم کی صالح پرورش کا سبب بنے اور بالآخر اس کو روحانی ترقی کی اس منزل کی طرف لے جائے جو اس کو جنت کے باغوں کا مستحق بناتی ہے۔ جو شخص دعوت حق کو قبول نہ کرے اس نے گویا اپنی روح کو ربانی پرورش کے مواقع سے محروم کردیا۔ حق کو ماننے والا اگر تواضع میں جی رہا تھا تو یہ دوسرا شخص گھمنڈ کی نفسیات میں جئے گا۔ حق کو ماننے والے کے لمحات اگر خدا کی یاد میں بسر ہورہے تھے تو اس کے لمحات غیر خدا کی یاد میں بسر ہو ں گے۔ حق کو ماننے والا اگر مواقع حیات میں اطاعت خداوندی کا رویہ اختیا ركيے ہوئے تھا تو یہ اس کی جگہ سرکشی کا رویہ اختیار کرے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس دنیا سے اس حال میں جائے گا کہ اس کی روح صحت مند اور ترقی یافتہ روح ہوگی اور جنت کی فضاؤں میں بسائے جانے کی مستحق ٹھہرے گی۔ اور وسرے شخص کی روح بیمار اور پچھڑی ہوئی روح ہوگی اور صرف اس قابل ہوگی کہ اس کو جہنم کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے۔


Connections

  • Previous: 11_2
  • Next: 11_4
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes