Recitation

Next: 10_100


Arabic

وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَأٓمَنَ مَن فِي ٱلۡأَرۡضِ كُلُّهُمۡ جَمِيعًاۚ أَفَأَنتَ تُكۡرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُواْ مُؤۡمِنِينَ


Urdu

اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرمانبردار ہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟


English

And had your Lord willed, those on earth would have believed - all of them entirely. Then, [O Muhammad], would you compel the people in order that they become believers


Tafsir — Bayan ul Quran

’’تیرا رب چاہتا تو سارے لوگ مومن بن جاتے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے لیے یہ ممکن تھا کہ انسانی دنیا کا نظام بھی اسی طرح بنائے جس طرح بقیہ دنیا کا نظام ہے۔ جہاں ہر چیز مکمل طورپر خدا کے حکم کی پابندبنی ہوئی ہے۔ مگر انسان کے سلسلہ میں خدا کی یہ اسکیم ہی نہیں۔ انسان کے سلسلہ میں خدا کی اسکیم یہ ہے کہ آزادانہ ماحول میں رکھ کر انسان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ خود اپنے ذاتی فیصلہ سے خدا کا فرماں بردار بنے۔ وہ اپنے اختیار سے وہ کام کرے جو بقیہ دنیا بے اختیاری کے ساتھ کررہی ہے۔ جنت کی ابدی نعمتیں اسی اختیارانہ اطاعت کی قیمت ہیں۔ ’’کوئی شخص خدا کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کو ایمان کی نعمت ملے گی تو اس طریقہ کی پیروی کرکے ملے گی جو خدا نے اس کے لیے مقرر کردیا ہے۔ موجودہ دنیا میں ایمان کو پانے کا راستہ یہ ہے کہ آدمی ایمان کی دعوت کو اپنی عقل کے استعمال سے سمجھے ۔ جس شخص کی عقل کے اوپر اس کی دنیوی مصلحتیں غالب آجائیں اس کی عقل گویا گندگی کی کیچڑ میں لت پت ہوگئی ہے۔ ایسے شخص کے لیے اس دنیا میں ایمان کی نعمت پانے کا کوئی سوال نہیں۔


Connections

  • Previous: 10_98
  • Next: 10_100
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes